মূল অংশে যান

আল জামি'আতুল আরাবিয়া দারুল হিদায়াহ

ফাতওয়া নং: ৫০৩ তারিখ: ২২/০৬/২০২৬ ঈ.

বরাবর

ফাতওয়া বিভাগ

আল জামি'আতুল আরাবিয়া দারুল হিদায়াহ, পোরশা ইসলামপুর, পোরশা, নওগাঁ, বাংলাদেশ।

বিষয়: স্ত্রী-সন্তানকে ভরণ পোষণ প্রদান করা প্রসঙ্গে।

প্রশ্নের বিবরণ:

স্বামী যদি বিবাহের পর থেকে স্ত্রী ও সন্তানের ভরণ পোষণের দায়িত্ব পালন না করে তাহলে তার শরয়ী হুকুম কি ? কুরআন ও হাদীসের আলোকে তা জানতে চাই।

সমাধান:

بسم الله الرحمن الرحيم، حامدا ومصليا ومسلما

: প্রশ্নোক্ত বিবরণ অনুযায়ী স্ত্রী ও সন্তান যদি নিজের ইজ্জত আবরু হেফাজত করে সততার সঙ্গে জীবন যাপন করতে সক্ষম না হয় এবং তাদের ভরণ পোষণেরও কোন ব্যবস্থা না থাকে তাহলে নিম্নোক্ত পদ্ধতি অবলম্বনের সুযোগ রয়েছে:- স্ত্রী তার অভিযোগ মুসলিম বিচারকের কাছে বা স্থানীয় মুসলিম চেয়ারম্যান ও মেম্বারের কাছে পেশ করবে। তারা শরয়ী সাক্ষ্য-প্রমাণ ও পূর্ণাঙ্গ তদন্তের মাধ্যমে বিষয়টি যাচাই বাছাই করবেন। যদি প্রমাণিত হয় যে, স্বামী আর্থিক সচ্ছলতা থাকা সত্ত্বেও স্ত্রী-সন্তানের ভরণ পোষণ প্রদান করছে না তাহলে বিচারক স্বামীকে নির্দেশ দিবেন, স্ত্রী-সন্তানের অধিকার সমূহ আদায় করতে, অন্যথায় স্ত্রীকে তালাক প্রদান করতে, স্বামী যদি কোনটিই না করে তাহলে বিচারক স্বামীর পক্ষ থেকে তালাক কার্যকার করবেন। এরপর স্ত্রী চাইলে ইদ্দত পালনের পর অন্যত্র বিবাহের সিদ্ধান্ত নিতে পারবে।
 في الخانية(٧/٢٦٦) نفقة الأولاد الصغار والإناث المعسرات على الأب لا يشاركه في ذلك أحد ولا يسقط بفقره۞  وفي الهداية(٢/٤١٧) النفقة واجبة للزوجة على زوجها مسلمة كانت او كافرة اذا سلمت نفسها الى منزله فعليه نفقتها وكسوتها وسكناها۞  وفي الهداية(٢/٤٢٤) نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كما يشاركه في نفقة الزوجة ۞  وفی فتاوی عباد الرحمن (۵/۱۳۳) میاں بیوی کے باہمی تعلق رب تعالی نے چین اور سکون کا ذریعہ قرار دیا ہے لیکن اسوقت باعث چین اور سکون ہوگا جب طرفین سے ایک دوسرے کے حقوق کا خیال ہو ورنہ زندگی اجیرن ہو جاتی ہے گھروں کے گھر اجڑ جاتے ہیں ایسی صورت میں چند اہل دانش کو جمع کر کے باہمی صلح و مصالحت کی کوشش کرنی چاہیے اگر یہ صورت بھی کار گر نہ ہو اور کسی طرح نباہ نہ ہو سکے تو شوہر کو چاہیے کہ سنت طریقے کے مطابق طلاق دیدے یا عورت کچھ مال وغیرہ دیکر خلع کر لے لیکن اگر شوہر ان سب کے لیے تیار نہ ہو اور نہ ہی نان نفقہ دیتا ہو بلکہ بلا وجہ عورت کو اذیت میں رکھتا ہو تو عورت کو یہ حق حاصل ہے کہ مذہب مالکیہ پر عمل کرتے ہوئے اپنا نکاح فسخ کرنے کے لیے شوہر کی خلاف درخواست دائر کرے پھر عدالت شوہر کو بلائے گی اس کو اس بات پر امادہ کریگی کہ یا تو بیوی کو معروف طریقہ کے مطابق نان نفقہ کا دیا کرے اور یا طلاق و خلع کے لیے تیار ہو جائے اگر وہ ان میں سے کسی ایک کے لیے بھی تیار نہ ہو تو عدالت نکاح فسخ کردے عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۞  في"الحيلة الناجزه" (٩٤) زوجہ متعنت کو اول تو لازم ہے کہ کسی طرح خاوند سے خلع وغیرہ کر لے،لیکن اگر باوجود سعی بلیغ کے کوئی صورت نہ بن سکے، تو سخت مجبوری کی حالت میں مذہب مالکیہ پر عمل کرنے کی گنجائش ہے کیونکہ ان کے نزدیک زوجہ متعنت کو تفریق کا حق مل سکتا ہے اور سخت مجبوری کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کے عورت کے خرچ کا کوئی انتظام نہ ہو سکے، یعنی نہ کوئی شخص عورت کے خرچ کا بندوبست کرتا ہو اور نہ خود عورت حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش پر قدرت رکھتی ہو، اور دوسری صورت مجبوری کی یہ ہے کہ اگرچہ بسہولت یا بدقت خرچ کا انتظام ہو سکتا ہے، لیکن شوہر سے علیحدہ رہنے میں ابتلاء معصیت کا قوی اندیشہ ہو-اور صورت تفریق کی یہ ہے کہ عورت اپنا مقدمہ قاضی اسلام یا مسلمان حاکم اور ان کے نہ ہونے کی صورت میں جماعت مسلمین کے سامنے پیش کرے اور جس کے پاس پیش ہو وہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کے ذریعہ سے پوری تحقیق کرے اور اگر عورت کا دعوی صحیح ثابت ہو کہ باوجود وسعت کے خرچ نہ دیتا تو اس کے خاوند سے کہا جاوے کہ اپنی عورت کے حقوق ادا کر یا طلاق دے، ورنہ ہم تفریق کر دیں گے، اس کے بعد بھی اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل نہ کرے تو قاضی یا شرعا جو اس کے قائم مقام ہو طلاق واقع کر دے، اس میں کسی مدت کے انتظار اور مہلت کی باتفاق مالکیہ ضروری نہیں۞  وفي"قاسميه"(١٦/٣٣٨) ایسی عورت کے لۓ اس شوہر سے رہائ حاصل کرنے کے لیے باتفاق ائمہ اربعہ صحیح صورت یہ ہے کہ یہ اس خاوند کو کسی طرح خلع پر راضی کرے اگر وہ شخص خلع پر راضی نہ ہو اور یہ عورت صبر کر کے اپنی زندگی عفت کے ساتھ گزار نہ سکے اور اس کے نان و نفقہ کی بھی کوئی صورت نہ ہو تو سخت مجبوری میں یہ بھی گنجائش ہے کہ مذہب مالکی کے موافق صورت ذیل اختیار کر کے رہائی حاصل کرے کہ جہاں قاضی شرعی نہ موجود ہو تو وہاں گواہوں کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کر دے،اور جہاں قاضی شرعی موجود ہو تو وہاں جماعت مسلمین اور محکمہ شرعیہ میں اپنا مقدمہ پیش کر دے، اور اس غائب کے ساتھ اپنا نکاح ہونا، پھر اس کی طرف سے خرچہ اخراجات کا نہ ملنا اور حقوق زوجیت کا ادا نہ کرنا گواہوں کے ذریعہ ثابت کر دے، اس کے بعد قاضی یا قائم مقام قاضی یعنی جماعت المسلمین اس غائب کے پاس حکم بھیجے کہ یا تو خود حاضر ہو کر اپنی بیوی کے حقوق ادا کرو یا اس کو وہیں بلالو یا وہیں سے کوئی انتظام کر دو ورنہ اسے طلاق دیدو اگر تم نے ان باتوں میں سے کوئی بات اختیارنہ کی تو پھر ہم خود تمہاری بیوی کو تمہاری زوجیت سے الگ کر دیں گے، اگر خاوند اس پر بھی کوئی صورت قبول نہ کرے تو قاضی۔۔۔۔۔۔ غائب کی زوجیت سے الگ کر دے، اور یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ زوجیت سے الگ کرنے کے لیے عورت کی طرف سے تفریق کا مطالبہ شرط ہے۞  وفی فتاوی عثمانی(۲/٤٦٢) اگر کوئی شوہر ایسا ہو جو باوجود استطاعت کے اپنی بیوی کو نان نفقہ نہیں دیتا اور عورت کے پاس نان نفقہ کا کوئی انتظام نہ ہو اور شوہر طلاق یا خلع کے لیے بھی تیار نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ مالکی مذہب کے مطابق اس شوہر سے عدالت کے ذریعہ خلاصی حاصل کر سکتی ہے.انتهى، والله أعلم بالصواب۞

অনলাইন ফাতওয়া || ফাতওয়া বিভাগ || আল জামি'আতুল আরাবিয়া দারুল হিদায়াহ