আল জামি'আতুল আরাবিয়া দারুল হিদায়াহ
ফাতওয়া নং: ৫৬২
তারিখ: ২৩/০৮/২০২৬ ঈ.
বরাবর
ফাতওয়া বিভাগ
আল জামি'আতুল আরাবিয়া দারুল হিদায়াহ, পোরশা ইসলামপুর, পোরশা, নওগাঁ, বাংলাদেশ।
বিষয়: সমপরিমাণ ঋণগ্রস্ত ব্যক্তির যাকাতের বিধান
প্রশ্নের বিবরণ:
একজন কোম্পানির মালিক তার বর্তমান সম্পদ ২ কোটি টাকা। এদিকে ব্যাংকের কাছে সমপরিমাণ টাকা ঋণগ্রস্ত। তার উপর যাকাত আসবে কি? ফতোয়ার কিতাব থেকে ১০ টি দলিল প্রয়োজন।
সমাধান:
بسم الله الرحمن الرحيم، حامدا ومصليا ومسلما
প্রশ্নোক্ত ব্যক্তি যদি উক্ত ঋণের টাকা দিয়ে এমন বস্তু ক্রয় করে থাকে যেগুলোর উপর যাকাত আসে না যেমন: কারখানার জমি, মেশিনারিজ ইত্যাদি তাহলে উক্ত ঋণ যাকাতের নেসাব থেকে বাদ যাবে না । এক্ষেত্রে তার নগদ দুই কোটি টাকার ওপর যাকাত ওয়াজিব হবে । আর যদি উক্ত ঋণের টাকা দিয়ে যাকাতযোগ্য সম্পদ ক্রয় করে যেমন ব্যবসায়িক পণ্য, কাঁচামাল ইত্যাদি তাহলে উক্ত ঋণ যাকাতের নেসাব থেকে বাদ যাবে অর্থাৎ দুই কোটি নগদ টাকা ও ব্যবসায়িক পণ্য থেকে যাকাতযোগ্য পণ্য ক্রয়ের ঋণের পরিমাণ বাদ দিয়ে অবশিষ্ট সম্পদ যা থাকবে তার যাকাত আদায় করতে হবে।
في فقه النوازل(٢/٢٤٥) الدين إذا استعمله المستدين في التجارة يسقط مقابله من الموجودات الزكوية،أما اذا استخدم في تملك المستغل من عقار أو آليات أو غير ذلك،فنظرا إلى أنه على الرأي المعمول به من أن الدين يمنع من الزكاة بقدره من الموجودات الزكوية، و أن ذلك يؤدي إلى إسقاة الزكاة في أموال كثير من الافراد و الشركات و المؤسسات مع ضخامة ما تحصله من أرباح . لذلك فإن اللجنة تلفت النظر إلى وجوب دراسة هذا الموضوع، و تركيز البحث عنه. و ترى اللجنة مبدئيا الأخذ في هذا بخصوصه بمذهب من قال من الفقهاء إنه إذا كان الدين مؤجلا فلا يمنع من وجوب الزكاة *
و في رد المحتار (٣/١٧٧)(أو مؤجلا الخ) عزاه في المعراج إلى شرح الطحاوي و قال: و عن أبى حنيفة لا يمنع قال الصدر الشهيد لا رواية فيه و لكل من المنع و عدمه وجه: زاد القهستانى عن الجواهر: و الصحيح أنه غير مانع *
و في بدائع الصنائع(٢/٦) و قال بعض شائخنا أن المؤجل لا يمنع ( وجوب الزكاة) لأنه غير مطالب به عادة *
و في السراجية (١٤٢) الدين المؤجل قال بعضهم يمنع و ذكر فخر الأئمة السرخسي عن شائخنا- رحمه الله أنه لا يمنع *
و في حاشية الطحطاوى على الدر المختار (١/٣٩١)( قوله المؤجل) و في القهستانى و الصحيح أن المؤجل غير مانع كما في الجواهر *
وفی اسلام اور جدید معشیت و تجارت (١١٤)۔ فقہی اصول یہ ہے کہ کسی پر دیون واجب ہوں تو دیون منہا کر کے باقی اموال پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، مگر یہ بات آج کل بہت قابل غور ہے کہ اکثر بڑے بڑے سرمایہ داروں نے بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے اپنے قرض لے رکھے ہوتے ہیں کہ ان کے قرضے ان کے قابل زکوٰۃ سرمائے سے عموماً بڑھ جاتے ہیں، عموماً صورت حال یہ ہوتی ہے کہ اگر ان کے قرضے منہا کئے جائیں تو نہ صرف یہ کہ ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی، بلکہ بعض صورتوں میں وہ خود مستحق زکوٰۃ قرار پائیں گے۔اس سلسلے میں ایک تجویز تو یہ پیش کی جاتی ہے کہ مشینری پر زکوٰۃ واجب قرار دی جائے لیکن یہ بات اس لئے قابل تسلیم نہیں کہ مشینری کو مال زکوٰۃ قرار نہیں دیا جا سکتا، یہ بات منصوص ہے، اس مسئلے کا صحیح حل یہ ہے کہ زکوٰۃ سے دین کا مستثنیٰ ہونا فقہاء کے ہاں متفق علیہ نہیں، حنفیہ اور حنبلیہ کے ہاں تو دیون مستثنیٰ ہوتے ہیں، شافعیہ کے ہاں مستثنیٰ نہیں ہوتے، اور مالکیہ کے ہاں نقود میں تو مستثنیٰ ہوتے ہیں، غیر نقود میں نہیں ہوتے۔احقر کی ناچیزرائے اس مسئلے کے بارے میں یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ جو قرض لیا گیا ہے وہ کہاں صرف کیا گیا، اگر ان قرضوں کے ذریعے ایسی اشیاء خریدی گئیں جو خود قابل زکوٰۃ ہیں تو یہ قرضے زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہوں گے۔ اور اگر ان قرضوں سے ایسی اشیاء خریدی گئیں جو قابل زکوٰۃ نہیں تو یہ قرضے مستثنیٰ نہیں ہوں گے، ان قرضوں کے سلسلے میں مالکیہ اور شافعیہ کے قول پر عمل کیا جائے گا، یہ رائے قائم کرنے کے بعد حافظ ماردینی رحمہ اللہ کی کتاب "الجوہر النقی" میں نظر سے گزرا کہ امام مالک رحمہ اللہ کا قول بھی اس کے قریب قریب ہے، وہ فرماتے ہیں: "ان کان عندہ عروض تفی بدینہ علیہ زکوۃ العین۔"(الجوہر النقی حاشیہ بیہقی ج: ۳ ص: ۱۳۹، باب الدین مع الصدقۃ)
وفی نوادر الفقہ( ٢/١٦) قرضوں کی منہائی؟--مسئلہ:- اگر کوئی صاحب نصاب مقروض ہو تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ قرض قابل زکوٰۃ مالیت میں سے منہا کیا جائے گا، منہائی کے بعد اگر وہ شخص صاحب نصاب ہی نہ رہا تو زکوٰۃ واجب نہیں رہے، صرف باقی مال کی زکوٰۃ واجب ہوگی۔ فقہ حنفی کا اصل ضابطہ تو یہی ہے، چنانچہ ترمیم شدہ آرڈینس میں بعض شرائط کے ساتھ بعض خاص قسم کے قرضوں کو زکوٰۃ کی ادائیگی سے مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ لیکن اس زمانے میں بڑے بڑے مالداروں کا کاروبار یہ ہو گیا ہے کہ قابل زکوٰۃ مال جتنا بڑھتا جاتا ہے، اس سے زیادہ قرض لیتے جاتے ہیں، اور نئی نئی ملیں کارخانے کھولتے جاتے ہیں۔ اگر ان سب قرضوں کو منہا کیا جائے تو ایسے مالداروں کو شاید زکوٰۃ دینے کی توفیق ہی نہ ہو، جو مقاصد شریعت کے بالکل خلاف ہے۔ لہٰذا اس زمانے کے متعدد علماء اہل فتویٰ، خصوصاً والد ماجد مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب کا فتویٰ یہ تھا کہ ایسے کاروباری حضرات کے لئے اپنے آپ کو زکوٰۃ سے فارغ سمجھنا مناسب نہیں۔ اور جس قدر اپنا قابل زکوٰۃ مال ہے، اس کی زکوٰۃ دینی چاہئے باوجود کہ امام شافعی کے نزدیک کسی قسم کے قرض کو زکوٰۃ سے منہا کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس زمانے میں پیداواری مقاصد کے لئے حاصل کئے ہوئے قرضے زکوٰۃ سے منہا نہیں کرنے چاہئیں، ہاں کسی نے اپنی ضروریات زندگی کے لئے قرض لیا ہو تو اسے منہا کیا جائے گا۔
و فی جديد فقهي تحقيقات (٦/٨٩ --زکوٰۃ کے مسئلہ پر غور کرتے ہوئے ضروری ہے کہ فقہی جزئیات سے پرے اٹھ کر شریعت کے مقصد و منشاء اور احکام زکوٰۃ کی روح کو بھی ملحوظ رکھا جائے، ظاہر ہے کہ زکوٰۃ کے سلسلہ میں شریعت کی روح یہ ہے کہ انسان اپنے مال میں خدا واسطے سے اس کے غریب بندوں کا بھی حصہ محسوس کرے اور غرباء پر خرچ کرے، اسی لئے فقہاء کے یہاں یہ قاعدہ مقرر ہوا کہ جہاں وجوب اور عدم وجوب دونوں پہلو موجود ہوں وہاں اس پہلو کو ترجیح دی جائے جس میں فقراء کو فائدہ ہوتا ہو۔اب صورت حال یہ ہے کہ اس زمانہ میں تجارت اور کاروبار کے لئے ترقیاتى قرضوں کا رواج عام ہے جو طویل مدت میں اور آسان اقساط پر ادا طلب ہوتا ہے، مقروض اس پیسہ سے بڑے بڑے معاشی فائدے حاصل کرتا ہے اوریہ رقم اس کے پاس جامد نہیں ہوتی بلکہ گردش میں رہتی ہے اور فقہاء نے زبان میں بالفعل مال نامی کی حیثیت رکھتی ہے، لیکن اگر اس دین کو زکوٰۃ سے مانع قرار دیا جائے تو فقراء عموماً ہمیشہ اپنے حق سے محروم رہیں گے، اس لئے جیسے متاخرین علماء نے بدلے ہوئے حالات کے پیش نظر عورتوں کے دین مہر کو زکوۃ میں مانع نہیں مانا ہے ۔ یہ بات عین مناسب ہے کہ طویل مدتی استثماری دیون میں ہر سال کی ادا طلب قسط کو اس سال کی زکوٰۃ كو مستثنى قرار ديا جائے اور باقی مالیت پر زکوٰۃ واجب قرار دی جائے۔ اس پر فقہاء کے اس جزئیہ سے بھی روشنی ملتی ہے جس میں بیوی کے نفقے کے دین کو زکوٰۃ سے مانع نہیں مانا گیا ہے، اور وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ نفقہ ایک ساتھ واجب نہیں ہوتا، بلکہ تھوڑا تھوڑا کر کے واجب ہوتا ہے۔
وفی جدید فقہی مسائل( ١/٢١٤)طویل مدتی دیون کی زکوۃ- -سرکاری اور نیم سرکاری اداروں کی طرف سے آج کل ترقیاتی اور صنعتی قرضے فراہم کئے جاتے ہیں، طویل مدت میں ان کی ادائیگی مطلوب ہوتی ہے ان قرضوں کی مقدار تو بہت زیادہ ہوتی ہے لیکن ہر سال ادا طلب قسط بہت معمولی ہوتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ایسے قرضے پورے کے پورے منہا کر کے زکوۃ واجب ہوگی یا ہر سال کی مطلوبہ قسط ہی منہا کی جائے گی اور باقی پورے مال کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی؟ فقہاء احناف کے عام اصول کا تقاضہ تو یہی ہے کہ ایسی صورت میں پورے قرض کو منہا کیا جائے اس کے بعد جو رقم بچ جائے اس میں زکوۃ واجب ہو۔ لیکن ایسے طویل مدتی دیون کو مستثنیٰ کرنے میں فقراء کو اپنے حق سے محروم ہونا پڑتا ہے اور صاحب مال کو ایک ایسے مال کی زکوۃ سے چھوٹ مل جاتی ہے جو اس کے تصرف میں ہے اور جس کی ادائیگی میں اسے بہت مہلت حاصل ہے ۔ اس لئے ان حالات میں سب سے متوازن، شریعت کی روح و مقصد سے ہم آہنگ اور معتدل رائے یہ ہے کہ ہر سال قرض کی جو قسط ادا کی جانی ہے صرف وہی مقدار زکوۃ سے مستثنیٰ ہوگی، بقیہ پورے مال میں زکوۃ ادا کی جائے گی۔اس سلسلہ میں فقہاء کے یہاں ایک نظر بھی موجود ہے کہ دیر سے ادا کیا جانے والا مہر (مہر مؤجل) منہا کئے بغیر پورے مال میں زکوۃ واجب ہوگی۔ چنانچہ علامہ کاسانیؒ نقل کرتے ہیں(:وقال بعض مشائخنا ان المؤجل لا يمنع لانه غير مطالب عادة .(ہمارے بعض مشائخ کہتے ہیں کہ ادھار مہر زکوۃ کی ادائیگی کے لئے مانع نہیں کیونکہ عام طور سے اس کا مطالبہ نہیں کیا جاتا ہے۔ خود امام ابو حنیفہؒ سے بھی اس طرح کے اقوال منقول ہیں کہ دین مؤجل یعنی دیر سے قابل ادائیگی قرضے زکوۃ واجب ہونے میں مانع نہیں ہیں اور علامہ شامیؒ نے نقل کیا ہے کہ یہی قول صحیح ہے۔
وفی قتاوی عثمانی(٢/٧١) سوال (۵۴۵): مکرمی و محترمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ - کینیڈا میں مکانوں کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ اس کی یک وقت ادائیگی مشکل ہے۔ اس لئے مجبورا قرض پر مکان خریدنا پڑتا ہے اور یہ قرض قسطوں میں ٢٥, ٣٠ سال میں ادا کیا جاتا ہے۔ مذکورہ بالا صورت میں یعنی مکان کا قرضہ بھی ہرمہ قسط کی صورت میں ادا ہو رہا ہے، اس کے باوجود ۵/۱۰ ہزار ڈالر جمع ہوگئے ہیں، کیا ان پر زکوٰۃ فرض ہوگی؟ اور حج بھی فرض ہوگا؟ جواب: اس رقم پر زکوٰۃ دینی چاہیے، کیونکہ مکان کا قرض مؤجل ہے اور قرض مؤجل علی الاصح مانع وجوب زکوٰۃ نہیں انتهى والله اعلم بالصواب...
অনলাইন ফাতওয়া || ফাতওয়া বিভাগ || আল জামি'আতুল আরাবিয়া দারুল হিদায়াহ