মূল অংশে যান

আল জামি'আতুল আরাবিয়া দারুল হিদায়াহ

ফাতওয়া নং: ৬৩৪ তারিখ: ২৫/০৯/২০২৬ ঈ.

বরাবর

ফাতওয়া বিভাগ

আল জামি'আতুল আরাবিয়া দারুল হিদায়াহ, পোরশা ইসলামপুর, পোরশা, নওগাঁ, বাংলাদেশ।

বিষয়: যাকাত প্রসঙ্গে।

প্রশ্নের বিবরণ:

ব্যবসায়ীক পণ্যের যাকাত দেওয়ার সময় কোন মূল্যের হিসাব করতে হবে ক্রয়মূল্য ‍? নাকি ‍বিক্রয়মূল্য?

সমাধান:

بسم الله الرحمن الرحيم، حامدا ومصليا ومسلما

ব্যবসায়িক পণ্যের যাকাত আদায়ের সময় পাইকারি বিক্রয়মূল্যের হিসাব করতে হবে। অর্থাৎ, যেদিন তার যাকাতের বছর পূর্ণ হবে, সেদিন মজুত সবগুলো পণ্য একত্রে বিক্রি করে দিলে যে মূল্য পাওয়া যাবে, সেই মূল্যের হিসাবে যাকাত আদায় করতে হবে।
 في المصنف لابن أبى شيبة(٦/٥٢٦-رقم١٠٥٥٩) عن الحسن فى رجل اشترى متاعا فحلت فيه الزكاة؟ فقال: يزكيه بقيمته يوم حلت*  وفي مصنف عبد الرزاق(كتاب الزكاة، باب الزكاة من العروض-٤/٩٧-رقم-٧١٠٥)عن ابن جريج قال: سمعت أنا أنها قيمة العروض يوم تجرح زكاته*  وفي الفتاوى التاتارخانية (٣/١٧٠-رقم-٤٠١٩)ولو ازدادت قيمتها قبل الحول تعتبر قيمتها وقت الوجوب بالاجماع، وإن انتقصت قيمتها عن مائتى درهم لا تجب الزكاة لأن النصاب ناقص في آخر الحول*  وفي الدر المختار: (٣/٢٥٠-اشرفيه ديوبند)(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه فتح. وفي الشامية: (قوله وهو الأصح) أي كون المعتبر في السوائم يوم الأداء إجماعا هو الأصح فإنه ذكر في البدائع أنه قيل إن المعتبر عنده فيها يوم الوجوب، وقيل يوم الأداء. اهـ وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح اهـ فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما، وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقاً عليه عنده وعندها*  وفي الفقه الاسلامي وادلته (٣/١٨٧١)يقوِّم التاجر العروض أو البضائع التجارية في آخر كل عام بحسب سعرها في وقت إخراج الزكاة، لا بحسب سعر شرائها، ويخرج الزكاة المطلوبة*  و الفتاوى الهندية: (١/٢٤١-جديد)وإن أدى القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب؛ لأن الواجب أحدهما ولهذا يجبر المصدق على قبوله وعندهما يوم الأداء*  و المحيط البرهاني، كتاب الزكاة، الفصل الثالث: بيان مال الزكاة، ج٣ ص١٦٧-١٦٩، مادة: ٢٦٧٩، إدارة القرآن*  وفي فتاوى محموديه(١٤/١٠١) اداء زکوۃ کے وقت کس قیمت کا اعتبار ہوگا ؟سوال : سونا چاندی کے زیورات کی زکوۃ کس حساب سے دی جائے جب کہ خرید کے وقت سونا چاندی کی قیمت اس وقت کے حساب سے بہت کم تھی چنانچہ خرید کے زمانہ میں سونا ٢٤/ روپیہ بھر کے حساب سے ملتا تھا اور اب١١٥/ر روپیہ بھری ملتا ہے۔الجواب حامد أو مصليا...سونا چاندی دونوں وزنی چیز ہیں ، ان میں نصاب اور اداء زکوۃ ہر دو کیلئے وزن کا اعتبار ہوگا، قیمت کا اعتبار نہیں ہوتا ، لہذا اگر دونوں کا نصاب کامل ہو تو دونوں کی زکوۃ میں چالیسواں حصہ دیدیا جائے، خواہ قیمت کچھ ہو، البتہ اگر سونا چاندی زکوۃ میں دینا مقصود نہ ہو تو ادا کرتے وقت جو قیمت قدر زکوة کی ہو اسکی کوئی اور شی دیدی جائے مثلاً اگر قدر زکوۃ دو تولہ سونا واجب ہو تو یا دو توله سونا دیا جائے یا اتنی مالیت کی دوسری چیز دی جائے ، غرض مستحق زکوۃ کے پاس دو تولہ سونے کی مالیت کا پہنچنا ضروری ہے تب زکوۃ ادا ہوگی ، خریدتے وقت سونے کی قیمت کا اعتبار نہیں*  وفي فتاوی دارالعلوم زکریا(٣/١٤٨) تجارتی سامان میں قیمت فروخت کا اعتبار ہوگا ...سوال: ایک شخص اپنی دکان کے مال تجارت کی زکوۃ نکالنا چاہتا ہے تو کس قیمت کے اعتبار سے نکالے قیمت خرید یا قیمت فروخت اور کس وقت کی قیمت کا اعتبار ہوگا جواب: صورت مسؤوله میں سامان تجارت کی زکوۃ نکالتے وقت قیمت فروخت کا اعتبار ہوگا*  وفي جواهر الفتاوى (١/٤٦) مال میں خواہ سونا و چاندی ہو یا مال تجارت سب کے اندر وجوب زکوۃ کیلیے قیمت فروخت کا اعتبار ہوگا قیمت خرید کا اعتبار نہ ہوگا*  وفي فتاوى عثماني(٢/٥٢)زکوۃ میں قیمت خرید کا حساب ہے یا قیمت فروخت کا؟سوال : ہم اپنے حساب کتاب کی سہولت کے پیش نظر زکوۃ کا حساب ہر سال دسمبر کے مہینہ میں کرتے ہیں، لہذا اس وقت جو مال ہمارے پاس ہوتا ہے اس وقت مال کی قیمت بازار کے بھاؤ سے، قیمت خرید سے زیادہ ہوتی ہے اور کچھ کی کم ، کیا ہم قیمت خرید کے حساب سے زکوٰۃ ادا کریں یا بازار کے بھاؤ کے حساب سے؟ جواب:جس تاریخ میں زکوۃ کا سال پورا ہوتا ہے اس تاریخ میں مال کا جتنا اسٹاک موجود ہے اس کی قیمت اسی تاریخ کے بازار کے نرخ کے لحاظ سے لگائی جائے گئی قیمت خرید کے لحاظ سے نہیں، البتہ زکوۃ کے لئے قمری مہینے کی کوئی تاریخ مقرر کرنی ضروری ہے۔*  وفي فتاوى دار العلوم زكريا (٣/١٣٩)سوال : اگر کسی شخص نے گزشتہ چند سالوں کی زکوۃ ادا نہیں کی ، اب ادا کرنا چاہتا ہے تو کسی قیمت کے حساب سے زکوۃ ادا کرے ، یا کسی کے سامان تجارت پر رمضان میں زکوۃ واجب ہوئی تھی اور چار مہینے تک زکوۃ ادا نہیں کی ، چار ماہ گزرنے کے بعد سامان تجارت کی قیمت بڑھ گئی تو اس صورت میں ماہ رمضان کا اعتبار ہے یا جس وقت ادا کرتا ہے اس کا اعتبار ہے؟ جدید فقہی مباحث اور جدید فقہی مسائل کی عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ یوم الاداء کا اعتبار ہے، ملاحظہ ہو جدید فقہی مباحث میں ہے:.............قيمت سے ادائیگی زکوۃ کے سلسلہ میں کس دن کی قیمت معتبر ہے، دو قول ہے ، ایک قول یہ ہے کہ مال پر جس دن سال گزرا اور اس مال کی زکوة واجب الاداء ہوئی ، اس دن کی قیمت کا اعتبار ہے ، اور دوسرا قول یہ ہے کہ جس دن زکوۃ ادا کر رہا ہے اس دن کی قیمت کا اعتبار ہے ، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ صاحب مال ان دونوں قولوں میں سے کس قول پر عمل کر کے اس کے مطابق زکوۃ ادا کرے تو غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ادائیگی زکوۃ کے دن كی قیمت کو معمول بہا قرار دیا جائے . ( جدید فقہی مباحث : ٥٦٧/۷، ادارۃ القرآن والعلوم ). الجواب:صورت مسؤوله میں اگر چند سالوں کی زکوۃ ادا کرنا چاہتا ہے تو یوم الوجوب یعنی جس دن سال پورا ہوا اور زکوۃ واجب ہوئی اس دن کا اعتبار ہے۔۔۔ اکثر فقہی عبارات اسی کے موافق ہیں، امام ابو حنیفہؒ کا بھی یہی قول ہے، اگر چہ بعض حضرات نے یوم الاداء والے قول کو اختیار کیا ہے، لیکن اس میں مشکلات پیش آتی ہیں، اس لئے کہ آئے دن قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے بار بار قیمت لگانے میں بھی دشواری ہے، لہذا آسانی کی وجہ سے يوم الوجوب والا قول اختیار کیا گیا ہے*  وفي احسن الفتاوى (٤/٢٦٨) وقت وجوب کی قیمت معتبر ہے ۔ البتہ زکوۃ سوائم میں وقت اداء کی قیمت کا اعتبار ہے* انتهى والله اعلم بالصواب.

অনলাইন ফাতওয়া || ফাতওয়া বিভাগ || আল জামি'আতুল আরাবিয়া দারুল হিদায়াহ